منوی چپ


چہلم اور سر امام حسین علیہ السلام کا آپ کے جسم مبارک سے ملحق ہونا

محسن محمدی [1] ترجمہ و پیش کش: تصورعباس::::اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اسیری کے بعد اھل بیت کا قافلہ کس وقت کربلا آیا ۔(پہلے چہلم پر یا اگلے سال)۔بعض کا نظریہ یہ ہے کہ دسویں محرم کے بعد پہلے چہلم پر یہ قافلہ کربلا آیا جب جابربن عبداللہ انصاری ، عطیہ کوفی اور بنی ہاشم کے بعض افراد کے ساتھ وہاں موجود تھے اور زیارت اور عزاداری امام حسین علیہ السلام کو انجام دیا ۔(پورےمضمون کےلیے عنوان پر کلک کریں)

سب سے پہلے جس نے حسینی قافلہ کی (چہلم کے دن )کی زیارت کا ذکر کیا ہے وہ ابوریحان بیرونی (م 340ق)ہے ۔ وہ اپنی کتاب "الآثار الباقیہ " میں لکھتا ہے کہ پہلی صفر کو آپ کا سرمبارک شام لایا گیا اور 20صفر کو واپس آپ کے بدن اقدس کی طرف پلٹایا گیا اور وہ دن زیارت اربعین کا دن ہے ۔

و فی العشرین رد راس الحسین علیہ السلام الی مجثمہ حتی دفن مع جثۃ و فیہ زیارت الاربعین و ھم حرمہ بعد انصرافھم من الشام ،[2]

20صفر کو امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک بدن اقدس کی طرف لایاگیا تاکہ بدن کے ساتھ دفن ہو سکے اور وہ (دن) زیارت اربعین کا دن ہے کہ اھل بیت کا قافلہ شام سے نکلنے کے بعد ان کی زیارت کو پہنچا ۔

قرطبی(م 678ق) اپنی کتاب تذکرہ میں نقل کرتا ہے کہ امامیہ کہتے ہیں سرمبارک امام حسین علیہ السلام ان کی شہادت کے 40دن بعد کربلا لوٹایا گیا ۔ "و ھو یوم معروف عندھم یسمون الزیارۃ فیہ زیارۃ الاربعین " اور وہ دن شیعہ کے نزدیک زیارت اربعین کے دن سے مشہور ہے ۔[3]

زکریا بن محمد بن محمود قزوینی(م 682 ق) نے اسی مطلب کو نقل کیا ہے کہ پہلی صفر بنی امیہ کے لیے عید کا دن ہے کیونکہ اسی دن امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو شام میں داخل کیا گیا ۔"و العشرون منہ ردت راس الحسین علیہ السلام الی جثتہ "؛ بیس صفر المظفر کو آپ کے سرمطھر کو ان کے جسم کی طرف لوٹایا گیا ۔[4]

شیخ بھائی(م 1030 ق) کتاب توضیح المقاصد میں اس بارے میں کہتے ہیں :

و فی ھذا الیوم و ھو یوم الاربعین من شھادتہ کان قدوم جابر انصاری لزیارتہ و اتفق فی ذلک الیوم ورود حرمہ من الشام الی کربلا،قاصدین المدینۃ علی ساکنہ السلام و التحیۃ ؛ [5]چہلم کا دن جابر کا  امام حسین علیہ السلام کی زیارت کےلیے آنے کا دن ہے اور اسی دن اھل بیت کا قافلہ بھی شام سے کربلا پہنچا ،تاکہ یہاں سے مدینہ جائیں ۔

مناوی (م 1031ق ) نے فیض القدیر میں نقل کیا ہے :"والامامیۃ یقولون : الراس اعید الی الجثۃ و دفن بکربلاء بعد اربعین یوما من القتل "[6]؛شیعہ کہتے ہیں کہ سر مبارک واپس کربلا پلٹایا گیا اور شہادت کے چالیس دن بعد بدن مبارک کے ساتھ دفن ہوا ۔

علامہ مجلسی (م 1110 ق)چہلم کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے مستحب ہونے کی دلیل کے طور پر فرماتے ہیں :

والمشھور بین الاصحاب ان العلۃ فی ذلک رجوع حرم الحسین صلوات اللہ علیہ فی مثل ذلک الیوم الی کربلا عند رجوعھم من الشام ، و الحاق علی بن الحسین صلوات اللہ علیہ الرووس بالاجساد ۔[7]

علما کے درمیان مشہور ہے کہ زیارت کے مستحب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے اھل بیت شام سے واپسی پر کربلا آئے اور امام علی بن الحسین علیہ السلام کے توسط سے سروں کو ان کے جسموں سے ملایا گیا ۔

شبراوی الاتحاف بحب الاشراف میں لکھتا ہے :" و قیل اعید الی الجثۃ بکربلاء بعد اربعین یوما من مقتلہ "[8]؛ کہا گیا ہے چالیس دن کے بعد سروں کو جسموں کی طرف پلٹایا گیا ۔

شبلنجی (متوفای 1322 ق)کہتا ہے : " وذھبت الامامیۃ الی انہ اعید الی الجثۃ  و دفن بکربلاء بعد اربعین یوما من المقتل "[9] امامیہ کہتے ہیں : سروں کو جسموں کی طرف پلٹایا گیا اور شہادت کے چالیس دن بعد کربلا میں دفن کیا گیا ۔

شیخ صدوق امالی میں فاطمہ بنت علی علیھا السلام سے روایت نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں : " الی ان خرج علی الحسین بالنسوۃ و رد راس الحسین الی کربلاء "[10]؛ حضرت علی بن الحسین اھل بیت کے قافلے اور اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے سر مبارک کو کربلا واپس لائے ۔   اس بات کو شیخ صدوق نے فاطمہ بنت علی کی زبانی نقل کیا ہے ۔

 


[1] : المصطفی انٹرنیشنل تحقیقاتی ادارہ کے علاقائی تحقیقاتی سنٹر کے محقق ۔

[2] : ابوریحان بیرونی ، الآثار الباقیہ ،ص 422۔

[3] :ابن عبدالبر قرطبی ، التذکرہ الخواص ،ج2ص 668۔

[4] : زکریا بن محمد قزوینی، عجائب المخلوقات و غرائب الموجودات ، ص 45۔

[5] : شیخ بھائی ، توضیح القاصد ، ص6۔

[6] :محمد بن علی مناوی ،فیض القدیر ،ج1،ص205۔

[7] :بحارالانوار ،ج101،ص334۔

[8] :عبداللہ بن محمد شبراوی ، الاتحاف بحب الاشراف ،ص70۔

[9] :سید مومن بن حسن شبلنجی ،نورالابصار، ص121۔

[10] :شیخ صدوق، امالی، ص232،ح243۔