منوی چپ


امام زمانہ عج کے نسب پر تجزیہ و تحلیل

 تحریر:تصورعباس خان::تمام شیعہ اور بعض علما ء اہل سنت کے نزدیک امام مہدی امام حسن عسکری علیہ السلام کے ذریعے امام علی (ع)کی اولاد میں سے ہیں یعنی مہدی بن حسن العسکری بن علی نقی بن محمد تقی بن علی رضا بن موسی کاظم بن جعفرصادق بن محمد باقربن علی زین العابدین بن حسین بن علی علیہھم السلام اجمعین
 
 
 

    آپ کی والدہ گرامی کہ جس کو مختلف ناموں سے یا دکیا جاتاہے حضرت نرجس خاتون ہیں کہ جنہیں ریحانہ اورسوسن بھی کہاگیا ہے مورخین کے قول کے مطابق عربوں میں رواج تھا کہ جب کنیز کو گھرلے آتے تو اپنی مرضی سے اس کا نام رکھتے اور شاید یہی وجہ ہو آپ کے مختلف نام ہونے کی ۔
    
شیخ صدوق نے غیاث سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا امام حسن عسکری کا جانشین جمعہ کے دن پیدا ہوا اس کی والدہ ریحانہ تھیں کہ جنہیں نرجس ،صیقل اور سوسن بھی کہاجاتا تھا ۔۔۔کمال الدین وتمام النعمۃ ،ص٤٣٢
    
پس آپ کی والدہ حضرت نرجس خاتون تھیں کہ جنہیں ریحانہ ،سوسن اور صیقل بھی کہاجاتا تھا اور شیخ صدوق کی روایت کے مطابق آپ قیصرروم کے بیٹے

یشوع کی بیٹی تھیں اور جنگ کی وجہ سے آپ اسیر ہوکر لائی گئیں اور امام ہادی علیہ السلام نے ایک آدمی بھیج کر بغداد سے خریدا اور سامرا لے آئے کمال الدین وتمام النعمۃ،ص٣١٧
    
البتہ بعض محققین اس روایت کے مقابلے میں اس دوسری روایت کو زیادہ قبول کرتے ہیں جو شیخ طوسی نے کتاب الغیبہ میں نقل کی ہے اور علامہ مجلسی نے بحارالانوارمیں بھی نقل کی ہے کہ حضرت نرجس خاتون ایک کنیزتھیں جو حضرت حکیمہ خاتون امام حسن عسکری کی پھوپھی کے گھر میں بڑی ہوئیں اورانہوں نے امام حسن عسکری ؑ سے اس کا عقد کرایا شیخ طوسی ،الغیبہ ،ص٢٤٤؛ بحارالانوار ، ج٥١،ص٢٢۔
    ان سے ہٹ کر حضرت نرجس خاتون کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے کہ جسے امام مہدی ک
ی والدہ گرامی ہونے کا شرف حاصل ہوا اور حضرت حکیمہ خاتون امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی اپنے آپ کو ان کی خدمتگزار کہتیں اور فرماتیں انت سیدتی وسیدۃ اھلی بل اخدمک علی بصری کہ آپ میری اور میرے خاندان کی سردارہیں میں آپ کی خدمت گزار ہوں کمال الدین وتمام النعمۃ ص ٤٢٤اور٤٢٧
    
پس شیعوں کا اتفاق ہے اور بعض اہل سنت کے علماء بھی شیعوں کے ساتھ متفق ہیں کہ حضرت امام مہدی عج امام حسین ؑ کی اولاد میں سے ہوں گے اورامام حسن عسکری ؑ کے فرزندہوں گے۔
    اہل سنت برادران امام زمانہ عج کے نسب کے بارے میں کہتے
ہیں کہ امام مہدی عج ظہورکریں گے کہ جن کے والد کانام عبداللہ ہوگا کیونکہ حدیث ہے جسے بعض اہل سنت کے مورخین نے نقل کیا ہے ۔
    
اہل سنت برادران معتقد ہیں کہ امام مہدی عج کا ظہور حتمی ہے اور ان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا اور امام حسن علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے وہ احادیث جو یہ بتاتی ہیں کہ امام مہدی عج کے والد کا نام عبداللہ ہوگا اگرچہ صریحا لفظ عبداللہ استعمال نہیں ہوا لیکن جہاں پر یہ کہا گیا ہے کہ

 اسمہ اسمی کہ مہدی میراہمنام ہوگا

  وہاں پر یہ اضافہ ہے کہ  اسم ابیہ اسم ابی

 کہ پیغمبرنے فرمایا

 اس کے والد کانام میرے والد کے نام پر ہوگا یعنی عبداللہ
    
شیعوں کے ساتھ ساتھ بعض اہل سنت کے علماء جیسے حافظ ابونعیم اور شافعی گنجی نے جوابات دیئے ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ اصل حدیث میں نہیں ہے بلکہ بعد میں اس حدیث میں اضافہ کیا گیا جیسے یہ روایت ہے ۔   

مستدرک علی الصحیحین ج١٩،ص٢٤٦باب قال ا ماحدیث عبدالعزیز، میں حاکم نیشابوری نقل کرتا ہے کہ حدثنا سفیان الثوری ،وشعبۃ ،وزائدۃ ،وغیرھم من أئمۃ المسلمین ،عن عاصم بن بھدلۃ ،عن زربن جیش ،عن عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ،عن النبی صل اللہ علیہ  وآلہ وسلم : أنہ قال: لاتذھب الایام واللیالی حتی یملک رجل من أھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی ،واسم أبیہ اسم أبی ،فیملا الارض قسطاوعدلاکماملئت جوراوظلما
    
سفیان ثوری نے شعبہ سے ،اس نے زائدہ سے اور دوسرے بزرگ افراد نے عاصم سے اس نے زربن جیش سے، اس نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے، اس نے رسول اکرم ؐ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا  :یہ دن اور راتیں ختم نہیں ہوں گی یہاں تک کہ میری اہل بیت میں سے ایک مرد اس پر حکومت نہ کرے جو میرا ہمنام ہوگا اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا جو زمین کو عدل وانصاف سے ایسے پر کردے گا جس طرح کہ وہ ظلم وجو رسے بھر چکی ہوگی ۔
    
جیسا کہ ملاحظہ کیا اس حدیث کے آخر میں آیا ہے کہ اسم ابیہ اسم ابی کہ مہدی کے والد کا نام پیغمبر کے والد کے نام پر ہوگا یعنی عبداللہ ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ  اگر آپ اس حدیث کے راویوں کے نام اپنے ذھن میں رکھ کر دیکھیں کہ باقی جتنی بھی احادیث سفیان ثوری نے عاصم سے نقل کی ہیں کہ جن حدیثوں کے راویوں میں  میں زائدہ نامی راوی نہیں ہے ان میں یہ آخری جملہ نہیں ہے اور اہل سنت کے بزرگ علماء نے اسے صحیح السند کہا ہے تو آپ کو پتہ چل جائے گا اس حدیث کے آخر میں اس زائدہ نامی راوی نے خود اضافہ کیا ہے  

مثلا بعض احادیث جو سفیان ثوری نے عاصم سے نقل کی ہیں اور ان میں یہ زائدہ نامی راوی نہیں ہیں مندرجہ ذیل ہیں  
پہلی حدیث  

  مسند احمد باب عبداللہ بن مسعود میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے کہ حدثنا یحی بن سعید عن سفیان حدثنی عاصم عن زرعن عبداللہ عن النبی صل اللہ علیہ وآلہ

وسلم قال لاتذھب الدنیاأوقال لاتنقضی الدنیا حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی ویواطیء اسمہ اسمی مسند احمد،باب عبداللہ بن مسعود،ج٧ص٤٢٧ح٣٣٩٢
    
یحیی بن سعید نے سفیان سے اس نے عاصم سے اس نے زرسے اوراس نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایایہ دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری اہل بیت میں سے ایک عربی مرد اس پر حکومت نہ کرے کہ جو میراہمنام ہوگا ۔
دوسری حدیث

    سنن الترمذی میں ہے حدثنا عبید بن اسباط بن محمد القرشی الکوفی قال حدثنی ابی حدثنا سفیان الثوری عن عاصم بن بھدلۃ عن زرعن عبداللہ قال:  قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم لاتذھب الدنیا حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی ۔قال ابوعیسی وفی الباب عن علی وابی سعید وام سلمۃ وأبی ھریرۃ ۔وھذاحدیث حسن صحیح ۔سنن الترمذی ،ج٨،ص٤٤٩،ح٢٣٩٤باب ما جاء فی المھدی
عبید بن سباط بن محمدقرشی کوفی سفیان ثوری سے اس نے عاصم سے اس نے زرسے اور اس نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا :دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری اھل بیت میں سے ایک مرد اس پر حکومت نہ کرے جو میراہمنام ہوگا پھرترمذی آگے اسی حدیث کے بارے میں کہتاہے ابوعیسی نے کہا ہے کہ اس بارے میں حضرت علی ،ابوسعید خدری ،حضرت ام سلمہ اور ابوھریرہ سے بھی احادیث نقل ہوئی ہیں اور یہ حدیث حسن اور صحیح ہے ۔
تیسری حدیث

    اسی طرح ترمذی اپنی سنن میں جلد ٤،ص٥٠٥،حدیث ٢٢٣٠ حدثنا عبدالجبار بن العلاء بن عبدالجبارالعطار حدثنا سفیان عن عینیۃ عن عاصم عن زر عن عبداللہ

عن النبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: یلی رجل من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی ۔
قال ابوعیسی: ھذا حدیث حسن صحیح
قال الشیخ الألبانی  :حسن صحیح
اسی حدیث کو احمدبن حنبل نے اپنی مسند ج١،ص٤٣٠،ح٤٠٩٨،ابوداود سجستانی نے اپنی مسند میں ج٤،ص١٠٦ح٤٢٨٢،طبرانی نے معجم الکبیرج١٠، ص١٣١،ح١٠٢٠٨
عبدالجباربن العلاء نے عبدالجبار عطار سے اس نے سفیان بن عینیہ ثوری سے اس نے عاصم سے ،اس نے زرسے اور اس نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر نے فرمایامیری اہل بیت میں سے ایک ایسامردآئے(قیام کرے)گا جو میراہمنام ہوگا ۔ابوعیسی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے اور البانی نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے

چوتھی حدیث

    طبرانی معجم الکبیر میں تین طریقے سے سفیان ثوری کے واسطے سے عاصم سے نقل کی گئی حدیث کو ذکرکرتا ہے کہ ایک حدیث تین طریقے سے نقل کی گئی ہے
حدثنا معاذ بن المثنی ثنامسدد ثنایحیی بن سعید(آگے  حدیث)
وحدثنا الحسین بن اسحاق التستری ثنامحمد بن عبدالرحمن بن سھم الانطاکی ثناابواسحاق الفزاری( حدیث)
وحدثنامحمد بن عبداللہ الحضرمی ثناعبید بن اسباط بن محمد ثناأبی کلھم عن سفیان الثوری عن عاصم عن زرعن عبداللہ قال :قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم :لاتنقضی الدنیا حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی واللفظ للحدیث مسدد(المعجم الکبیر ،ج١٠،ص١٣٤،ح١٠٢٣٩
(اس حدیث کے پہلے راویوں کا گروہ) طبرانی کہتاہے کہ ہم سے یہ حدیث معاذبن المثنی نے بیان کی ،اس کو یحیی بن سعید نے اس نے سفیان ثوری سے۔۔۔الی آخرحدیث

دوسراگروہ ہم (طبرانی) سے یہ حدیث بیان کی حسین بن اسحاق تستری نے ،اس کو عبدالرحمن بن

 سھم انطاکی نے بتایا، اس سے ابواسحاق الفزاری نے بیان کیا ، اس نے سفیان ثوری سے ۔۔۔۔الی آخر حدیث ؛
تیسراگروہ ہم( طبرانی) سے یہ حدیث بیان کی محمد بن عبداللہ الحضرمی نے ،اس سے عبیدبن اسباط بن محمد نے بیان کی ۔۔۔۔
    
ان سب  (تینوں قسم کے راویوں) نے سفیان ثوری سے اس نے عاصم سے اور اس نے زر بن جیش سے اور اس نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا :یہ دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری اہل بیت میں سے عربی مرد اس پر حکومت نہ کرے کہ جو میراہمنام ہوگا ۔
    
جیسا کہ ملاحظہ فرمایا مذکورہ بالاتمام حدیثیں سفیان ثوری نے عاصم سے نقل کی ہیں کہ جن میں وہ اضافہ نہیں ہے جو پہلی حدیث میں تھا کہ اسم ابیہ اسم ابی اور اس کی وجہ وہی ہے کہ جو حافظ گنجی شافعی نے بیان کی ہے کہ اصل میں پہلی حدیث کہ جس میں یہ اضافہ ہے اس میں زائدہ نامی راوی ہے جو حدیثوں میں اضافہ کرنے کے حوالے سے مشہور تھا اور یہیں سے اس حدیث نے بعض دوسری روایتوں میں سرایت کی کیونکہ اگر یہ جملہ واقعی تھا تو باقی روایتوں میں کیوں نہیں آیا جب کہ باقی سب کی سب جو ابھی بیان ہوئی ہیں سب سفیان اور عاصم سے نقل ہوئی ہیں ۔
    
اس سے ہٹ کر بہت بڑی دلیل ابوداود سجستانی کی مسند میں نقل کی گئی وہ حدیث ہے جو خود اہل سنت والوں کے پاس دلیل ہے کہ امام مہدی عج کے والد کا نام عبداللہ ہوگا لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس حدیث سے بھی  اس سے برعکس نتیجہ نکلتا ہے ہم اسی حدیث کا یہاں تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں ملاحظہ کریں ۔

 داود سجستانی اس حدیث کو راویوں کے چارمختلف گروہوں سے نقل کرتا ہے کہ جس میں سے صرف ایک حدیث میں یہ اضافہ ہے لیکن باقی تین راویوں کی حدیث میں یہ اضافہ نہیں ہے جو دلیل ہے کہ اس آخری جملے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد دوسری کتابوں میں بھی یہ جملہ سرایت کرگیا
وہ حدیث یہ ہے کہ:

 حدثنا مسددان عمربن عبیدحدثھم  (حدیث)
وحدثنامحمد بن العلاء حدثناابوبکر۔یعنی ابن عیاش (حدیث)
وحدثنایحیی عن سفیان (ح)
وحدثنااحمد بن ابراہیم حدثنی عبیداللہ بن موسی عن فطر۔المعنی واحد ۔ کلھم عن عاصم عن زرعن عبداللہ عن النبی ۔صل اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : " لولم یبق من الدنیاالایوم "  قال زایدۃ فی حدیثہ " لطول اللہ ذلک الیوم "  ۔ثم اتفقوا "حتی یبعث فیہ رجلامنی "  او "من اھل بیتی یواطی ء اسمہ اسمی واسم بیہ اسم ابی  " زاد فی حدیث فطر " یملاالارض قسطا وعدلاکماملئت ظلما وجورا۔قال فی حدیث سفیان " لاتذھب أو لاتنقضی الدنیا حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی " قال  ابوداود لفظ عمروابی بکربمعنی سفیان ۔
راویوں کا پہلاگروہ : مجھ( ابوداود) سے بیان کیا مسدد نے، ان سے عمربن عبید نے بیان کیا ۔۔۔۔۔حدیث
دوسراگروہ : مجھ( ابوداود) سے بیان کیا محمد بن العلاء نے اور اس نے ابوبکریعنی ابن عیاش سے نقل کیا ۔۔۔۔۔(آگے حدیث)
تیسرگروہ :مجھ( ابوداود)سے یہ حدیث یحیی نے بیان کی، اس سے سفیان ثوری نے ۔۔۔۔۔(آگے حدیث)
چوتھا گروہ :مجھ( ابوداود) سے بیان کیا احمد بن ابراہیم نے، اس نے عبیداللہ بن موسی سے، اس نے فطرسےیعنی ایک ہی حدیث ان سب نے عاصم سے اوراس نے زرسے اور اس نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا :اگر اس دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن رہ گیا ہو  ۔ زایدہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ " خداوندمتعال اس دن کو اتنا طولانی کردے گا "  اس سے اگلاجملہ تمام راویوں کی روایت میں ہے کہ  یہاں تک کہ خداوند مجھ (میری اہل بیت میں) سے ایک مرد کو مبعوث فرمائے گا یا ( ایک روایت میں یہ عبارت ہے میری اہل بیت میں سے ہوگا جومیراہمنام ہوگا اوراس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا) فطر کی حدیث میں آگے ہے " زمین کو ایسے عدل وانصاف سے پرکردے گا جس طرح کہ وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی" پھر کہا کہ سفیان سے نقل کی گئی حدیث میں ہے کہ  "دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک میری اہل بیت میں سے ایک عربی مرد اس پر حکومت نہیں کرے گا کہ جو میرا ہمنام ہوگا " آخر میں ابوداود سجستانی کہتا ہے کہ عمر اور ابوبکر(راویوں کے پہلے دوگروہ) سے نقل کی گئی حدیث بھی اسی طرح ہے ( یعنی اس میں بھی اسم ابیہ اسم ابی والی بات نہیں ہے جو زایدہ کی روایت میں ہے )
    
اب ایک ہی حدیث راویوں کے چارگروہوں سے نقل ہورہی ہے کہ تین میں آخری جملہ اسم ابیہ اسم ابی نہیں ہے اور ایک میں ہے اب کس حدیث کو لینا چاہیے وہ جو راویوں کے تین گروہوں نے نقل کی ہے یا وہ جو ایک گروہ نے اور لطف کی بات یہ ہے کہ سب نے عاصم سے نقل کی ہے پس نتیجہ روشن اور واضح ہے ۔
سفیان ثوری کے علاوہ بھی باقیوں نے عاصم سے احادیث نقل کی ہیں کہ جن میں یہ اضافہ نہیں ہے ہم نمونے کے طورپرذکرتے ہیں مثلا

پہلی حدیث

   اخبرنا محمد بن احمد بن ابی عون الریانی ،قال حدثنا علی بن المنذر ،قال حدثنا ابن فضیل ،قال حدثناعثمان بن شبرمۃ ،عن عاصم بن ابی النجود،عن زر،عن عبداللہ ،قال قال النبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم یخرج رجل من امتی یواطیء اسمہ اسمی ،وخلقہ خلقی،فیملؤھاقسطاوعدلاکما ملئت ظلماوجورا  

(صحیح ابن حبان ،باب ذکر البیان بان المھدی یشبہ ،ج٢٨،ص١٩٢،ح٦٩٥١
ابن حبان کہتا ہے کہ ہم سے محمد بن احمد بن ابی عون الریانی نے بیان کیا اس نے علی بن منذر سے اس نے فضیل سے اس نے عثمان بن شبرمہ سے اس نے عاصم سے ،اس نے زرسے اور اس نے عبداللہ سے کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا  :میری امت میں سے ایک مرد قیام کرے گا کہ جو میراہمنام ہوگا اس کا اخلاق میرے اخلاق کے مشابہہ ہوگا پس وہ زمین کو عدل وانصاف سے ایسے پرکردے گا جس طرح کہ وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی ۔

 اس کے علاوہ بھی اسی کتاب میں٧سے زیادہ حدیثیں نقل ہوئی ہیں کہ جس میں صرف اسمہ اسمی آیا ہے ۔
    
حدثنا یحیی بن اسماعیل بن محمد بن یحیی بن محمد بن زیاد بن جریربنعبداللہ البجلی الکوفی ،حدثناجعفربن علی بن خالدبن جریربن عبداللہ البجلی ،حدثناابوالاحوص سلام بن سلیم ،عن عاصم بن ابی النجود ،عن زربن جیش ،عن عبداللہ بن مسعود ،قال

قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ  وسلم : لاتذھب الدنیاحتی یملک رجل من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی ،

یملاالارض عدلاوقسطا کماملئت جورا وظلما

 معجم صغیرطبرانی ،ج٢،ص٢٩٠

    عبداللہ بجلی کوفی نے جعفربن علی بن خالدبن جریر بن عبداللہ بجلی سے ،اس نے ابوالاحوص سلام بن سلیم سے ،اس نے عاصم سے ،اس نے زربن جیش سے ،اس نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا  : یہ دنیا ختم نہیں ہوگی مگر یہ کہ میری اہل بیت میں سے ایک مرد اس پر حکومت نہ کرے جو میرا ہمنام ہوگا زمین کو عدل وانصاف سے ایسے پرکردے گا جس طرح کہ وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی۔
    
حدثنامحمد بن السری بن مھران الناقد ؛ثناعبداللہ بن عمربن أبان؛ ثنایوسف بن حوشب الشیبانی ؛ ثناأبویزید الاعورعن عمروبن مرۃ عن زربن جیش عن عبداللہ بن مسعودقال : قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم: لاتذھب الدنیاحتی یملک رجل من اھل بیتی یوافق اسمہ اسمی

معجم الکبیرباب عبداللہ بن مسعودج١٠،ص١٣١،ح١٠٢٢٩
    
طبرانی کہتا ہے کہ مجھ سے محمد بن سری بن مہران ناقد نے بیان کیا ،اس سے عبداللہ بن عمربن ابان نے بیان کیا ،اس سے یوسف بن حوشب شیبانی نے ،اس سے ابویزید اعور نے اس سے عمروبن مرۃ نے اس سے زر نے ،اور اس نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیاہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا  : دینا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری اہل بیت میں سے ایک مرد اس پر حکومت نہ کرے جو میرا ہمنام ہوگا ۔    
    عقدالدررمیں یہ حدیث نقل ہوئی ہے کہ عن عبداللہ بن م
سعود رضی اللہ عنہ،قال قال رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم لاتقوم الساعۃ حتی یلی الارض رجل من اھل بیتی ،اسمہ اسمی اخرجہ الحافظ ابوبکرالبیھقی عقدالدررفی اخبارالمنتظرص٥٥
    
عبداللہ بن مسعود سے نقل ہے کہ پیغمبراکرم ؐنے فرمایا :قیامت برپانہیں ہوگی مگر یہ کہ  میری اہل بیت میں سے ایک مرد قیام نہ کرے ۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو حافظ ابوبکر بیہقی نے بھی نقل کیا ہے ۔
  

  حافظ ابونعیم اصفہانی ان احادیث کے بارے میں کہ جن میں یہ جملہ اسم ابیہ اسم ابی کا اضافہ ہوا ہے

 ان کے بارے میں لکھتے ہیں ان ممایلحظ علی الاحادیث المتقدمۃ انھا غیرمعروفۃ عندغالبیۃ الحفاظ والمحدثین ،مع تصریحھم ان الاکثروالاغلب علی روایۃ واسمہ اسمی فقط،من غیرزیادۃ

 (واسم أبیہ اسم أبی) وممایزید الامروضوحاھوتصریح من أوردالحدیث بعدم وجود(واسم أبیہ اسم أبی) فی أکثرکتب الحفاظ ،قال المقدسی الشافعی بعد ان أوردالحدیث عن أبی داود أخرجہ جماعۃ من أئمۃ الحدیث فی کتبھم ،منھم الامام أبوعیسی الترمذی فی جامعہ ،والامام أبوداودفی سننہ ،والحافظ أبوبکرالبیھقی ،والشیخ أبوعمروالدانی ،کلھم ھکذایریداسمہ اسمی فقط بدون زیادۃ واسم ابیہ اسم ابی
    
۔۔۔۔ومن ھنا یتبین أن عبارۃ (واسم ابیہ اسم ابی) ھی من زیادۃ احدالرواۃ عن عاصم ۔۔۔۔وقد رد زیادۃ واسم أبیہ اسم أبی زیادۃ علی من أعرض عن روایتھا بعض اعلام ھذاالفن من أھل السنۃ ،منھم الآبری علی ما فی البیانللکنجی الشافعی ؛اذروی الکنجی عن کتاب أبی الحسن الآبری المسمی مناقب الشافعی،فقال ذکرھذاالحدیث ،وقال فیہ وزادزائدۃ فی روایتہ۔۔۔۔
    
ان تین حدیثوں کو کہ جن کے آخر میں (اسم ابیہ اسم ابی) آیا ہے ابونعیم اصفہانی کہتے ہیں کہ یہ احادیث اکثر بزرگ فقہااور محدثین کے نزدیک معروف نہیں ہیں ساتھ اس کے کہ بعض نے تصریح کی ہے کہ یہ حدیث صرف اسمہ اسمی پر ختم ہوجاتی ہے اور اس میں یہ جملہ اسم ابیہ اسم ابی نہیں ہے اور اس سے بھی زیادہ بات تب واضح ہوجاتی ہے کہ بہت سے حفاظ اور فقہانے اپنی اکثر کتابوں میں اس اسم ابیہ اسم ابی کے بغیر یہ حدیث نقل کی ہے مقدسی شافعی نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ
اس حدیث کو علماء کے ایک گروہ نے اپنی کتابوں میں نقل کیا جیسے ابوعیسی ترمذی نے اپنی جامع میں ،امام ابوداود نے اپنی سنن میں ،حافظ ابوبکربیہقی ،شیخ ابوعمرودانی نے تمام نے اسی طرح نقل کی ہےیعنی صرف اسمہ اسمی

 ہے اور جس میں یہ اضافہ اسم ابیہ اسم ابی نہیں ہے
    
یہاں سے واضح اور روشن ہوجاتا ہے کہ واسم ابیہ اسم ابی کا راویوں میں سے کسی ایک نے اضافہ کیا ہے اور بعض اہل سنت کے علماء میں سے جو علم حدیث کے ماہر سمجھے جاتے ہیں انہوںنے اس زیادتی کو رد کیا ہے اور قبول نہیں کیا ہے جیسے کہ الآبری نے رد کیا ہے شافعی گنجی نے اپنی کتاب البیان میں ابوالحسن لآبری کی کتاب مناقب الشافعی سے نقل کیا ہے کہ الآبری نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ  زائدہ نے اس روایت میں اس جملے کا اضافہ کیا ہے ۔۔۔۔
    
بعض شیعہ علماء نے ان احادیث میں کہ جن میں اس جملہ اسم ابیہ اسم ابی کا اضافہ ہوا ہے اس کی مختلف تاویلیں کی ہیں لیکن سید محمد کاظم قزوینی کے بقول اور اسی طرح ابونعیم اصفہانی شافعی کے بقول وہ حدیثیں اتنی اہمیت نہیں رکھتی کہ ان کی تاویل کی جائے اور حقیقت بھی یہی ہے اور ہم ان تاویلوں سے اس بحث کو بے نیاز دیکھتے ہوئے ترک کرتے ہیں اور حقیقت سب پر روشن ہے کہ شیعوں کے اتفاق کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے بعض علماء نے بھی نقل کیا ہے کہ امام مہدی عج امام حسن عسکری علیہ السلام  کے فرزند ہیں جیسے:
    شیخ ابوبکرنیشابوری شافعی نے کتاب شعب الایمان میں ؛ابوسالم کتاب مطالب السؤال میں ؛حافظ گنجی شافعی نے
کتاب البیان میں ؛حافظ ابونعیم اصفہانی نے امام کے متعلق لکھی چالیس احادیثوں میں ؛حنفی قندوزی نے ینابیع المودۃ میں ؛سبط بن جوزی تذکرۃ الخواص میں ؛ابراہیم جوینی نے فرائدالسمطین وغیرہ میں اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ امام مہدی کے والدامام حسن عسکری ؑ ہیں اور وہ سامرا میں پندرہ شعبان ٢٢٥ھجری میں پیدا ہوئے ۔
    
حقیقت بھی یہی ہے کہ اوپرجو ہم نے احادیث بیان کی ہیں ان سے دوسری احادیث کہ جن میں یہ جملہ (اسم ابیہ اسم ابی )آیا ہے ان کے ضعیف ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا اگر بالفرض کوئی پھر بھی انہیں احادیث پر اصرار کرے کہ نہیں امام مہدی عج کے والد کانام عبداللہ ہے جو پیغمبر اکرم ؐکے والد کا نام تھا تو بھی حق شیعوں کے ساتھ ہے کیونکہ روایات میں آیا ہے کہ امام حسن عسکری ؑکے دو نام تھے ایک حسن اور دوسرا عبداللہ اور اس بات کو نہ صرف شیعوں نے نقل کیا ہے بلکہ اہل سنت میں سے بھی بعض نے بیان کیا ہے جیسے محمد رضاامامی نے جنات الخلود میں سید یزدی نے کفایۃ الموحدین میں اہل سنت میں سے قاضی شہاب الدین دولت آبادی نے مناقب السادات میں اور مولی معین الھروی نے اپنی تفسیراسرار الفاتحہ میں بھی نقل کیا ہے (منتخب الاثر،ج٢،ص٢٠٦)
    
اسی طرح دوسرااختلاف یہ ہے کہ اکثر اہل سنت والے معتقد ہیں کہ امام مہدی امام حسن کی اولامیں سے ہونگے اس بات پر دلیل ایک حدیث ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی امام حسن کی اولاد میں ہونگے وہ حدیث یہ ہے کہ
    
ابوداوودنے اپنی سنن میں ابواسحاق سے نقل کیا ہے کہ علی نے اپنے بیٹے امام حسن کی طرف دیکھا اور فرمایا :
    
تحقیق میرایہ بیٹا سردار ہے جس طرح کہ پیغمبر نے اسے سردار کہا ہے اور بہت جلد اس کی صلب سے ایک مرد ظھور کرے گا کہ جو ہمنام پیغمبر ہوگا (سنن ابن داوود ج٢،ص٣١١،ح٤٢٩٠)
جواب:
    
حالانکہ پہلے حصے میں کہ جہاں ہم نے ثابت کیا ہے کہ امام مہدی عج امام حسن عسکری ؑ کی اولاد میں سے ہوں گے اس کے بعد یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ ہم کہیں کہ امام مہدی عج امام حسن مجتبی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں لیکن پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ
 (۱): یہ صرف ایک حدیث ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی امام
حسن کی اولاد میں سے ہونگے حالانکہ دسیوں روایات ایسی ہیں کہ جو اس بات کی تصریح کرتی ہیں کہ امام مہدی امام حسین کی اولاد میں سے ہونگے پس کیسے ان تمام روایتوں کواس ایک روایت کے مقابلے میں ٹھکرایا جاسکتا ہے ۔
(۲):کتاب عقدالدررکے مصنف نے بھی اسی روایت کو نقل کیا ہے لیکن وہاں ہے کہ امام علی ؑ نے امام حسین کی طرف دیکھا اور یہ حدیث فرمائی اس سے بھی بڑھ کر دوسری کتابوں جیسے صحیح ترمذی ،سنن نسائی ،سنن بیھقی میں بھی آیا ہے کہ امام علی نے امام حسین کی طرف دیکھ کرکہا کہ اس کی صلب سے اس امت کا مہدی ہوگا ۔
(۳): بالفرض
قبول کرلیں کہ وہ حدیث صحیح ہے تو بھی ان دونوں حدیثوں میں جمع کی جاسکتی ہے کہ امام مہدی حسنی بھی ہیں اور حسینی بھی کیونکہ امام باقر علیہ السلام کی والدہ گرامی اور امام سجادبن الحسین کی زوجہ فاطمہ امام حسن کی بیٹی ہیں پس کہاجاسکتا ہے کہ امام مہدی حسنی بھی ہیں اور حسینی بھی ۔
    
ایک حدیث میں خود رسول خدا نے بھی فرمایا ہے کہ اس امت کامہدی ان دونوں حسن وحسین کہ اولاد میں سے ہوگا (مجمع الزوائد ،ج٩،ص ١٦٥؛محمد بن یوسف کنجی شافعی ،البیان فی اخبار صاحب الزمان ،باب١ ص٨١
    
پس امام سجاد امام حسین کے بیٹے ہیں اور آپ کی زوجہ فاطمہ امام حسن کی بیٹی ہیں کہ جن سے امام باقر علیہ السلام پانچویں امام دنیا میں آئے اورباقی امام اسی امام کی اولاد میں سے ہیں تو رسول خدا کا یہ قول بھی سچاہے کہ امام مہدی ان دونوں حسن وحسین کی اولاد سے ہونگے ۔
    
(۴): جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ یہ صرف ایک حدیث ہے حالانکہ دسیوں احادیث خود اہل سنت کی کتابوں میں نقل ہیں کہ جن میں کہا گیاہے کہ امام مہدی عج امام حسین علیہ السلا م کی اولاد میں سے ہونگے ہم صرف نمونے کے طورپردوروایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
محمد صالح حسینی ترمذی نے مناقب مرتضوی میں حضرت سلمان سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ دخلت علی النبی صل اللہ علیہ وآلہ فاذا الحسین علی فخذہ وھویقبل عینیہ وفاہ ویقول انت سید بن سید ،انت امام بن امام ،انت حجۃ بن حجۃ ابوحجج تسعۃ من صلبک تاسعھم قائمھم مناقب مرتضوی،دوسراباب،ص١٣٩
حضرت سلمان کہتے ہیں کہ میں نبی ؐکے پاس گیا اور دیکھا کہ حسین رسول خدا ؐکے زانو پر بیٹھے ہیں اور رسول خدا ؐکبھی ان کی آنکھوں اور کبھی منہ کو چومتے ہیں اور فرمایاتوسردار ہے اور سردار کا بیٹا ہے ،تو امام ہے اور امام کا بیٹا ہے ،تو خدا کی طرف سے اس کی مخلوق پر حجت ہے اور حجت کا بیٹا ہے اور خدا کی طرف ۔  مخلوق پر باقی نو حجتیں تیری اولاد میں ہوں گی کہ ان میں سے آخری قائم آل محمد ہوگا ۔
اسی حدیث کو ابوالموید موفق خوارزمی نے اپنی کتاب مقتل الحسین میں بھی نقل کیا ہے مقتل الحسین ،ج١ساتواں باب ،ص١٤٦حافظ شیخ سلیمان حنفی قندوزی نے ینابیع المودۃ ،باب٥٤،ص١٦٨

اور اسی طرح باب٥٦،ص٢٥٨میں ۔۔،سید علی بن شہاب ہمدانی شافعی کی کتاب مودۃ القربی سے یہی حدیث نقل کی ہے ۔
حموئی جوینی شافعی نے عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ کہا سمعت رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ یقول انا وعلی والحسن والحسین وتسعۃ من ولد الحسین مطھرون معصومون فرائد السمطین ،ج٢،ص١٣٢،حدیث ٤٣٠
    
حضرت عبداللہ بن عباس نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ فرمارہے تھے کہ میں ،علی ،حسن اور حسین اور حسین کی ذریت سے نہ امام پاک اور معصوم ہیں
اور ینابیع المودہ کے مصنف نے اسی حدیث کو فرائد السمطین سے بھی نقل کیا ہے اورکتاب مودۃ القربی سے بھی ۔

ماخوذ از کتاب "موعود ادیان مہدی صاحب الزمان عج "مصنف تصورعباس خان