منوی چپ


ولادت امام زمانہ عج پر عقلی ،نقلی اورتاریخی دلائل

مضمون نگار :درخشان وقارزیدی اورناھیدبانو ،المصطفی یونیورسٹی                                  خدا وند متعال نے اس دنیا کو اپنی حکمت سے خلق کیا ہے اوراس کائنات میں ایسا نظام قرار نہیں دیا کہ جس سے حیات انسانی مختل وبے راہ رو ہوجائے اوراسی ہدف کے تحت ہر زمانے میں ایک ایسے انسان کا انتخاب کیا کہ جو کشتی نجات کا ناجی ہے

اورموجودہ زمانے میں وہ کامل انسان مہدی موعود عج ہے جو تمام مسلمانوں کے نزدیک قابل قبول ہے اور اگر کوئی اختلاف پایا جاتا ہے تو وہ جزئی مسائل میں پایا جاتا ہے اس مختصر سی تحقیق میں ولادت امام مہدی عج پر عقلی ،نقلی اور تاریخی دلائل کے ذریعے بحث کی گئی ہے ۔

(ادارہمیشہ کرشش کرتا آرہا ہے کہ اپنے قارئین کے لیے مختصر اورمفید مضامین پیش کرے تاکہ قارئین بہت جلد اورواضح طورپر اصل ہدف تک پہنچ جائیں اسی لیے ادارہ اس مضمون کو بھی مختصر کرکے صرف ان بحثوں کو پیش کررہا ہے جو اصل عنوان سے مربوط ہیں )

امام مہدی کی ولادت :شیعوں کے بارہویں امام ،امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزندارجمند ۱۵ شعبان سن ۲۵۵ھجری ۸۶۹میلادی جمعہ کی صبح کو اس جہان کو اپنے نورسے منور اورروشن کیا ۔اگرچہ اس تاریخ میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے جیسے بعض نے کہا ،۲۵۴ ھجری یا ۲۵۶ھجری وغیرہ تو یہ اختلاف طبعی تھاکیونکہ امام کی ولادت پوشیدہ طورپر ہوئی (درسنامہ عصرغیبت ،ص۲۷)

عقلی دلائل :

خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا اورا س کو تمام مخلوقات پر فضیلت دی انسان اس فضیلت سے اس لیے شرف یاب ہوا کیونکہ خدا نے اسے عقل جیسی نعمت سے نوازا جو کہ حقائق کو درک کرنے کابہترین وسیلہ ہے اورراہ حق وباطل کو تشخیص دینے میں انسان کی راہنمائی کرتی ہے اسی قوہ بشری کا تقاضاہے کہ انسان کو اپنے ہدف تخلیق تک پہنچانے کے لیے ایک معصوم ہادی اورراہنما کی ضرورت ہے جو اس کوراہ راست کی طرف ہدایت کرے بعنوان نمونہ چند دلائل پیش کرتے ہیں

برہان لطف :

اس مقدمہ کو بیان کرنے سے پہلے چند مقدمات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے الف:لطف محصل :وہ لطف ہے جس میں مکلف اپنے اختیار سے خدا کی اطاعت کرتا ہے

ب: لطف مقرب: وہ لطف ہے جس میں مکلف کو واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے بچنے میں مدد حاصل ہوتی ہے

امامیہ اور معتزلہ کے علم کلام کے علماء لطف کو خدا کے لیے واجب جانتے ہیں کیونکہ خدا نے بندوں کو عبث اورفضول پیدا نہیں کیا لہذا اس ہدف تک پہنچنے کےلیے جوبھی چیز موثر ہو اس کوخداوندمتعال انجام دیتاہے ان میں سے ایک لطف ہے یہ قاعدہ اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ اس کائنات میں ایک ایسا امام موجود ہونا چاہیے جو حق کا محور ہو اورمعاشرے کو خطاوں سے دوررکھے ایسا ہادی جو معاشرے کی نسبت لاپرواہ نہ ہو تاکہ لوگ اگر گمراہی میں مبتلاء ہوں تو ان کی ہدایت کرے اور باطل راستوں سے بچاے( پس ہرزمانے میں خدا کے اس لطف کے ہم محتاج ہیں یہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ آج بھی ضرورت ہے اوراس زمانے میں سوائے امام زمان عج کے کوئی دوسرا ہادی نہیں ہے اورامام کا وجود ایک لطف ہے اس خالق لم یزل کا اپنے بندوں پر )

برہان فطرت

برہان فطرت کے مقدمات

ماہرنفسیات نے انسان کے فطری غرایز کو تین دستوں میں تقسیم کیا ہے

الف:غرایز وتمایل ذاتی جیسے دوستی ووغیرہ ۔۔۔۔۔

ب: غرایز ومعاشرتی رجحانات

ج:حقیقی تمایلات اوررجحانات مثل حقیقت کی تلاش ،کمال مطلق تک پہنچنا

پس کمال مطلق اور خدا تک پہنچے کےلیے ضروری ہے کہ انسان کے پاس ایسا وسیلہ ہونا چاہیے جو اس منزل تک پہنچنے میں مددگارثابت ہو اورایسا راہنما ہوتا چاہیے جو پہلے اس منزل کو طے کرچکا ہو تاکہ وہ راہنمائی کرسکے اورایسے راہنما کی طرف جھکاو بھی انسان کے وجود کے اندر احساس کیا گیا ہے

اگر انسان کے اندر کسی چیز کی طرف جھکاو پایا جاتا ہو تو لازم ہے کہ وہ چیز خارج اورحقیقت میں موجود ہو ورنہ یہ انسان کا جھکاو بے ہودہ اورفضول ہوگا یا دوسرے الفاظ میں کہاجاسکتا ہے کہ خدانے کوئی ایسا غریزہ انسان کے وجود میں نہیں رکھا کہ جس کا جواب خارج میں موجود نہ ہو پس انسان کا عشق اورجھکاو انسان کامل کی طرف کہ جو امام معصوم ہے اور عالم خلقت میں واسطہ فیض ہے نتیجہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ انسان کاعشق اورجھکاو انسان کامل کی طرف اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خارج میں موجود ہو اور وہ مصداق امام مہدی عج کے علاوہ اورکوئی نہیں (موعود شناسی وپاسخ بہ شبھات ،ص ۲۷۰،۲۷۱

قانون عدم تبعیض اورفیض

نبوت اورامامت فیض معنوی ہیں یہودیت کی نظر میں یہ حضرت موسی کی وفات کے بعد یہ فیض اورارتباط بشر عالم لاھوت کے ساتھ قطع ہوگیا نیز مسیحیت کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسی کو پھانسی دینے کے بعد اورآسمان پر جانے کے بعد ارتباط بشرعالم لاھوت کے ساتھ منقطع ہوگیا

اہل سنت نے بھی خود کو اس فیض سے محروم کردیا اور اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبر اکرم ص کی رحلت کےبعد یہ فیض منقطع ہوگیا اب سوال یہاں پر یہ اٹھتا ہے کہ کیوں امت اسلامی اس فیض سے محروم رہے ؟ کیا امت اسلامی دوسری امتوں کی طرح ہدایت کی محتاج نہیں تھی َ؟ کیوں خداوندمتعال نے اس ارتباط کو امام کے توسط سے برقرارہوتا ہے قطع کردیا ؟

شیعہ حضرات نے اس مشکل کو حل کردیا اور اس کا بہترین جواب دیا امامیہ کے مطابق یہ فیض اگرچہ رسول اللہ کی وفات کےبعد وحی کے قطع ارتباط سے اس فیض سے محروم ہوگئے لیکن دوسرے وسیلے یعنی انسان کامل کے وجود بابرکت سے یہ ارتباط آج تک برقرار ہے اور یہی امام عصرحضرت امام مہدی عج کا وجود پرنور ہے کہ جس کے وسیلے سے خدا اوربندوں کے درمیان فیض کامل کا سلسلہ قائم ہے

پروفیسر ھانری کربن کہتا ہے کہ میرے نظریے کے مطابق شیعہ فقط تنھا مذہب ہے کہ جس نے عالم انسانیت اورخداوندمتعال کے درمیان ہدایت الہی کے رابطے کو مطلقا حفط کررکھا ہے اوریہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا (موعودشناسی ،ص ۲۷۸)

برہان عنایت :

عنایت کے لغوی معنی ارادہ اورقصد کے ہیں اوراصطلاحی معنی کےلیے مختلف تعریفیں بیان ہوئی ہیں

فخررازی کہتا ہے کہ عنایت یعنی خداوندمتعال کا علم اس چیز پر کہ اشیاء کا کس حالت میں ہونا ان کو بہترین اور کامل ترین درجہ تک پہنچا سکتا ہے (تفسیرکبیر بہ نقل از موعودشناسی ،ص۲۶۹)

صدرالمتالھین کہتے ہیں کہ یہ عالم موجود نہایتا خیروفضیلت ہے

برہان عنایت جو کہ وجود امام زمان عج پر بہترین دلیل ہے اس کامضمون اس طرح سے ہے

خلقت جہاں میں بہترین اورنیکوترین نظام حاکم ہے اس قول کے مطابق وجود امام اس جہان میں لازم وواجب ہے ورنہ یہ جہاں خلقت ونظم کے لحاط سے احسن نہیں کہلائے گا لہذا اس برہان کے مطابق جس طرح بعثت پیغمبران ضروری ہے امام کا ہونا بھی ضروری ہے

خدا وندمتعال نے ہر موجود کے کمال تک پہنچنے کے لیے ضروری وسائل اس کے اختیار میں قراردئیے ہیں تاکہ وہ اپنے کمال تک پہنچ سکے کیسے ممکن ہے کہ انسان جو کہ اسی جہان طبیعت میں زندگی گزار رہا ہے اس قانون سے خارج ہو اورمعنوی ارتقاء اس کے لیے لحاظ نہ کیا جائے

امام مہدی عج کی ولادت شیعہ روایات کی روشنی میں

حضرت حکیمہ خاتون سےروایت

حضرت حکیمہ خاتون جو کہ امام جواد علیہ السلام کی بیٹی اورامام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی ہیں بیان کرتی ہیں کہ  ابومحمد حسن بن علی علیہ السلام نے ایک خادم کے ذریعے مجھے پیغام بھجوا کر مجھے اپنے پاس بلایا

اورفرمایا:اے پھوپھی جان آج افطار ہمارے پاس کریں کیونکہ آج پندرہ شعبان کی رات ہے اورآج کی رات خداوندمتعال اپنی حجت کو زمین پر بھیجے گا حکیمہ خاتون کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کس ماں سے متولد ہوں گے ؟فرمایا :نرجس خاتون۔ میں نے کہا کہ میری جان آپ پر فدا میں اس میں حمل کے آثار نہیں دیکھ رہی ۔  فرمایا : جو کچھ بیان کیاہے وہی انجام پائے گا

اس وجہ سے میں نرجس کے پاس داخل ہوئی اورسلام کیا نرجس خاتون نے میرے پاس آئیں تاکہ میرے جوتے اتاریں مجھ سے کہا : اے میری سیدہ آپ کا کیا حال ہے ؟ میں نے جواب دیا نہیں بلکہ آُ پ میری اورمیرے خاندان کی سردار ہیں

لیکن انہوں نے میری بات کا انکار کیا اور جواب دیا اےپھوپھی جان آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں میں نے کہا :اے میری بیٹی آج کی شب خداوندمتعال تجھے ایسافرزند عنایت کرے گا کہ جو دونوں جہاں کا مالک ہوگا ؟ یہ سن کر نرجس نے شرم سے سرجھکا لیا (تاریخ عصرغیبت ،ص۳۰)اس کےبعد میں نماز عشا بجالائی اور اپنے بستر پر چلی گئی جیسے ہی آدھی رات ہوئی میں نماز شب پڑھنے کےلیے بیدارہوئی اورتعقیبات پڑھنے کے بعد سو گئی اورتھوڑی دیر بعد دوبارہ بیدارہوئی اسی اثنا میں نرجس بھی نماز تہجد کےلیے بیدار ہوئی اور نمازتہجد بجالائی پھر میں اپنے حجرے سے باہر آئی تاکہ طلوع فجر کےبارے مطلع ہوسکوں میں نے دیکھا کہ فجراول کا وقت ہوچکا ہے

اسی وقت میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ کیوں ابھی تک حجت کے متولد ہونے کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہورہا قریب تھا کہ میرے دل میں شک ایجاد ہوتا کہ اچانک امام حسن عسکری علیہ السلا م  نے اپنے حجرے سے مجھے آوازدی !

اے پھوپھی جان جلدی نہ کریں کہ موعود کی ولادت کا وقت قریب ہے میں سورہ الم سجدہ اوریسین :( اوردوسری روایات کے مطابق سورہ قدر)پڑھنے میں مشغول ہوئی اچانک نرجس خاتون مضطرب حالت میں بیدار ہوئی میں جلدی سے اس کے پاس گئی اورپوچھا ،کیا کسی چیز کا احساس کررہی ہو ؟

نرجس نے جواب دیا ہاں

میں نے اس سے کہا کہ خدا کا نام اپنی زبان پر جاری کرو یہ وہی موضوع ہے جس کا پہلے میں نے ذکرکیا پریشان نہ ہو اوراپنے دل کو مطمئن رکھو

اسی اثنا میں نور کا پردہ میرے اور اس کے درمیان حائل ہوگیا (یا دوسری روایت کے مطابق کہ میری آنکھوں پر نیند کا ایسا غلبہ ہوا کہ میری تھوڑی دیر کے لیے آنکھ لگ گئی جب بیدار ہوئی )تو دیکھا کہ نرجس کی آغوش میں نومولود ہے درحالانکہ سراقدس سجدہ میں ہے اورخدا کے ذکر میں مشغول ہے جب مولود کو آغوش میں لیا تو میں نے دیکھا کہ کاملا پاک وپاکیزہ ہے اسی اثنا میں امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے اپنے پاس بلایا اورکہا اے پھوپھی جان میرے فرزند کو میرے پاس لے کر آئیں جب نوزاد کو امام کی خدمت میں لے گئی تو امام نے انہیں اپنی آغوش لیا اور داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اورفرمایا اے میرے فرزند کچھ بولو !

پس بچے نے اپنی زبان مبارک سے کلمہ شہادتین جاری کیا

اشہد ان لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ وان جدی رسول اللہ وان ابی امیرالمومنین اسی طرح سارے معصومین کی امامت کی گواہی دی  (بحارالانوار،ج۵۱،ص۱۳)

جب ساتویں دن جب میں امام کے گھر گئی تو امام نے اپنے بیٹے کوطلب کیا اور اپنے بیٹے کو اٹھا کر فرمایا :اے میرے بیٹے مجھ سے بات کرو تو اس نومولود نے سورہ قصص کی آیت نمبر ۵ کی تلاوت کی بسم اللہ الرحمن الرحیم ،ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ونجعلھم آئمۃ ونجعلھم الوارثین ؛ترجمہ :ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزوربنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اورزمین کا وارث قراردیں ۔

دوسری روایت :چالیس افراد کا امام کی زیارت سے شرفیاب ہونا

ایک دن شیعوں میں سے چالیس افراد امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوئے اورتقاضا کیاکہ امام مہدی عج کی زیارت کروائیں تو امام حجرے کے اندرگئے اورایک بچے کو باہر لے کرآئے کہ جو چاند کے مانند درخشان اوراپنے والد کی مکمل شبیہ تھے امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا :کہ میرےبعد یہ میرا بیٹا آپ لوگوں کے درمیان میراجانشین ہے اس کی اطاعت کرو اور اس سے پراکندہ نہ ہونا ورنہ ہلاک ہوجاو گے اورآپ لوگوں کادین تباہ ہوجائے گا یہ بھی جان لو کہ اُپ لوگ اسے نہ دیکھو گے یہاں تک کہ ایک طولانی مدت گذرجائے لہذا اس زمانے میں ان کے نائب عثمان بن سعید کی اطاعت کرنا خورشید مغرب ص ۲۳ 

نوبختی جو کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے جلیل القدر اصحاب میں سے ہے اورشیعوں کے بزرگ مفکراوردانشور تھے کہ جنہوں نے بہت سارے شاگردوں کی تربیت بھی کی یہ وہی شخص ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں ان کی عیادت کو گئے اوروہاں پر امام مہدی عج کی زیارت کی ۔(خورشید مغرب ،ص ۲۳)

علماء کے اقوال :

مرحوم کلینی لکھتے ہیں کہ (ولدللنصف من شعبان سنۃ خمس وخمسین ومائتین )کہ مہدی موعود ۲۵۵ھجری کو پیدا ہوئے

مسعودی ،شیخ صدوق ،شیخ مفید ،سید مرتضی اورشیخ طوسی نے بھی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے

علامہ طباطبایی لکھتے ہیں کہ :حضرت امام مہدی عج کہ جو گیارہویں امام کے فرزند ہیں اور آپ ہمنام پیغمبر ہیں ۲۵۶یا ۲۵۵ ھجری کو شہرسامرا میں پیدا ہوئے

امام مہدی عج کی ولادت اور اہل سنت

بعض علماء اہل سنت نے بھی اپنی کتابوں میں امام مہدی عج کی ولادت کا ذکر کیاہے جیسے :

ابن خلکان (م۶۸۱ھ)لکھتا ہے

ابوالقاسم محمد بن حسن العسکری بن علی بن ہادی بن محمد جواد مذکورہ بالا شیعوں کے بارہ اماموں میں سے بارہویں امام ہیں کہ ان کا مشہور لقب حجت ہے ۔۔۔۔ان کی ولادت جمعہ کے دن ۱۵شعبان کوہوئی ہے

شبراوی شافعی (م۱۱۷۱ھ)اس نے ۱۵شعبان کو امام مہدی عج کی ولادت کی تصریح کی ہے

علی بن حسین مسعودی لکھتا ہے :وہ (امام حسن عسکری علیہ السلام )مدینہ میں ربیع الثانی کے مہینہ میں ۲۳۲ھ  میں پید ا ہوئے اورجمعہ کے دن ۸ربیع الاول میں شہید کردئیے گئے ان کی عمرمبارک اس وقت ۲۹ سال تھی وہ سامرا میں اپنے گھر میں دفن کیے گئے اور اوراپنے بیٹے کو جانشین کے عنوان سے متعارف کرایایعنی امام منتظرکا ۔،خدا کا ان پر درود وسلام ہو

سبط ابن جوزی حنبلی (م۶۵۴ھ)کہتا ہے :

وہ محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیھم السلام ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ اورابوالقاسم ہے وہی خلف ،حجت اورصاحب الزمان عج ،قائم اور منتظر ہیں ۔۔۔۔۔

اوربھی بہت سے اہل سنت کے علماء نے امام کی ولادت کا ذکر کیاہے

غیبت صغری میں امام سے ملاقات کرنے والے

شیعوں کی کتابوں میں ایسی بہت سی روایتیں نقل ہوئی ہیں کہ جو امام سے غیبت صغری میں ملاقات کو بتاتی ہیں عبداللہ بن جعفر حمیری ،محمد بن عثمان سے سوال کرتےہیں کہ کیا صاحب الامر عج کو دیکھا ہے انہوں نے جواب دیا ہاں اور آخری بار بیت اللہ میں ان کی زیارت کی (بررسی تطبیقی مہدویت ،ص۲۲۰)

وہ چند افراد نے جنہوں نے امام کی زیارت کی

ابراہیم بن ادریس (کلینی ،اصول کافی ،ج۱ص۳۳۱)

محمد بن عثمان (الغیبہ ،شیخ طوسی ،)

ابراہیم بن محمد تبریزی (الغیبہ ،شیخ طوسی ،ص ۲۲۶)

احمد بن اسحاق بن سعداشعری (کمال الدین وتمام النعمہ ،شیخ صدوق ،ج۲،ص۳۸۴)

ابراہیم بن عبدہ نیشاپوری (کلینی اصول کافی ،ج۱ص۳۳۱)

تاریخی دلائل :

امام زمانہ عج کی ولادت پر بعض تاریخی دلائل بھی پیش کیے جاسکتے ہیں

جیسے

(۱)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے فورا بعد شیعوں میں اختلاف حتی کہ بعض نے ۲۴فرقے لکھے ہیں کہ جن میں شیعہ بٹ چکے تھے لیکن تھوڑے ہی عرصےبعد سب کے سب خود بخود شیعہ اثناعشری میں واپس آگئے

 کیا اتنے بڑے اختلافات کےبعد بغیر کسی رہبر کی راہنمائی کے اور بغیر امام کی ولادت سے مطمئن ہوئے، واپس آگئے ؟یہ دلیل ہے امام کی ولادت پر ان کے موجود ہونے پر ۔

نائبین خاص کا منتخب کرنا

اگر غیبت صغری میں امام کے چار نائبین پر توجہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ظاہر ا یہ عام سے افراد تھے کیسے ممکن ہے کہ ظاہرا عام سے افراد بغیر امام کی ولادت کے تمام شیعوں حتی کہ شیعہ بزرگ علما کا مرکز بن جائیں ؟شیعہ اپنی حاجات ان تک پہنچائیں اور وہ واسطہ ہوں شیعہ اور ان کے امام کے درمیان

توقیعات کا صادر ہونا

امام کی طرف سے بہت سی ایسی تحریریں شیعوں کی طرف آئیں ہیں جو اسی دن سے آج تک متواتر نقل ہورہی ہیں اور کسی نے بھی شک نہیں کیا جو واضح دلیل ہے امام کے موجود ہونے پر اور امام ولادت پر