منوی چپ


نواب اربعہ اور ان کی ذمہ داریاں

   مضمون نگار: سکینہ بتول ،المصطفی یونیورسٹی                                                             عالم بشریت میں رہنے والے تمام انسانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ہادی اورپیشوا کی معرفت رکھتے ہوںکیونکہ ہرزمانے کے لیے انسانو ں پر خدا کی ایک حجت ہے چاہے وہ حجت ظاہر ہو یا پوشیدہ اورپردہ غیب میں؛

 

 

،امام زمانہ عج جو اس زمانے کے امام ہیں ان کی معرفت پر ان کے ماننے والوں پر واجب ہے اورپھراسی ضمن امام

زمانہ عج کی غیبت صغری میں ان نواب اربعہ کی معرفت بھی ضروری ہے جو امام زمانہ عج کے نائب خاص تھے

لہذا اس موضوع کی اہمیت کی وجہ سے ضروری تھا کہ نواب اربعہ کی ان ذمہ داریوں کا تذکرہ کیا جائے جو انہوں نے اپنے زمانے کی تمام تر مشکلات اورسختیوں کے باوجود بڑے احسن طریقے سے انجام دیں

(اس مقالہ کی مؤلفہ نے نواب اربعہ کی ذمہ داریوں کے ضمن میں خود نواب اربعہ کی زندگانی پر بھی روشنی ڈالی ہے ادارہ قارئین کے لیے مختصر لیکن مفید مقالات پیش کرنے کی غرض سے اس مضمون کو مختصر کرکے قارئین کے لیے پیش کررہاہے

غیبت صغری :وہ زمانہ جوامام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت (سن ۲۶۰ھجری )سے شروع ہوا اور ۲۲۹ھجری کو امام کے چوتھے نائب کی وفات کے ساتھ ختم ہوا

غیبت کبری : جو ۲۲۹ھجری سے آج تک چلا آرہا ہے

ان دو دوروں میں فرق یہ ہے کہ غیبت صغری میں امام زمانہ عج کے نائب خاص تھے جو امام اور شیعوں کے درمیان واسطہ تھے شیعہ اپنے مسائل ان تک پہنچاتے اور وہ امام سے جواب لے کر شیعوں تک پہنچاتے ۔

غیبت صغری جو ۶۹ سال کے عرصے پرمحیط ہے اس زمانے میں امام کے چارنائب خاص تھے

پہلے نائب خاص :ابوعمر عثمان بن سعید عمری :

شیخ طوسی کہتے ہیں کہ عثمان بن سعید امام زمانہ عج کے علاوہ امام ہادی اورامام حسن عسکری علیھما السلام کے وکیل بھی رہ چکے ہیں شیخ طوسی مزید لکھتے ہیں کہ احمد بن اسحاق بن سعد قمی نے امام ہادی علیہ السلا م کی خدمت میں عرض کیا کہ مولا میں ہروقت آپ کی زیارت سے مشرف نہیں ہوسکتا کیونکہ سفر بھی زیادہ ہے (اور حکومت کی طرف سے حالات بھی ایسے ہیں )تو میں شرعی مسائل پوچھنے کے لیے کس سے رجوع کروں تو امام ہادی علیہ السلام نے فرمایا :یہ ابوعمرو(عثمان بن سعید )میرے نزدیک مورد اطمینان ہے اس کی باتوں پر عمل کرو یہ جو کچھ کہے میری طرف سے کہتا ہے

دوسرے نائب خاص :ابوجعفر محمد بن عثمان بن سعید :

۲۸۰ ھجری میں اپنے والد کی وفات کے بعد امام زمانہ عج کے نائب خاص بنے امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ عثمان بن سعید میرا وکیل ہے اور اس کا بیٹا میرے بیٹے (یعنی قائم آل محمد عج )کا وکیل ہے

تیسرے نائب خاص :ابوالقاسم حسین بن روح نوبختی :

امام کے یہ تیسرے نائب دوسرے نائب کے زمانے سے ہی ان کی طرف سے امام کے مختلف اموال کی ذمہ داری حسین بن روح کے پاس تھے نوبختی خاندان میں سے جانی پہچانی شخصیت کے مالک تھے اور ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتے تھے اور حکومت میں اپنا اچھاخاصا اثرورسوخ رکھنے کی بنا پر بہت سے شیعوں کی مشکلات بھی حل کرواتے تھے

چوتھے نائب :ابوالحسن علی بن محمد سمری :

امام زمانہ عج کے چوتھے غیبت صغری میں آخری نائب تھے اگرچہ ان کی نیابت کی مدت دوسرے نائبین کی نسبت بہت کم تھی لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے فرائض اچھے طریقے سے انجام دئیے اور ان کی وفات سے چھ دن پہلے امام زمانہ عج کی طرف سے ایک تحریر ملی جس میں لکھا تھا کہ اب غیبت کبری کا زمانہ آپہنچا ہے اوراپنے بعد کسی کو نائب مقرر مت کرنا ۔

شیخ صدوق نے کمال الدین میں اس توقیع کو نقل کیا ہے وہ امام عج کی تحریر یہ ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم یا علی بن محمد السمری اعظم اللہ اجراخوانک فیک ،فانک میت مابینک وبین ستۃ ایام فاجمع امرک ولا توص الی احد یقوم مقامک بعد وفاتک ،فقد وقعت الغیبۃ الثانیۃ ،فلاظھور الا بعد اذن اللہ عزوجل وذلک بعد طول الامد وقسوۃ القلوب وامتلاء الارض جورا وسیأتی شیعتی من یدعی المشاھدۃ ألافمن ادعی المشاھدۃ قبل خروج السفیانی والصیحۃ فھوکاذب مفتر ۔ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے علی بن محمد سمری !خداوند تیرے بھائیوں کو تیری وفات کا اجر عظیم عطافرمائے تو چھ دن بعد فوت جوجائے گا پس اپنے کاموں کو سمیٹ لو (اورجانے کے لیے تیار ہوجاو)اپنے بعد کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر مت کرنا کیونکہ دوسری غیبت کا وقت آن پہنچا ہے پس ظہور نہیں ہوگا مگر خداوند عزوجل کے اذن سے اور ایسا (یعنی ظہور)زمانے کے طولانی ہونے اور دلوں کی سختی اورزمین کے ظلم وستم سے پر ہونے کے بعد ہوگا   بہت جلد شیعوں میں سے بعض میری زیارت کا دعوی کریں گے آگاہ رہنا جو بھی سفیانی کے خروج اور آسمانی فریاد سے پہلے ایسا دعوی کرے وہ جھوٹااور فریب کار ہے کوئی قدرت اور طاقت نہیں سوائے خداوند بزرگ وبرتر کے ۔

یہ چار نائب جو نواب اربعہ کے نام سے مشہور ہیں غیبت صغری میں ان کی چند ایک ذمہ داریاں تھیں جنہیں انہوں نے بڑے احسن انداز میں نبھایا

 ۱:امام کے وجود کے بارے میں لوگوں کے شک وگمان کو ختم کرنا   

کیونکہ امام زمانہ عج کی ولادت مخفی تھی اورسوائے چند خالص افراد کے باقیوں کو پتہ نہیں تھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا کوئی فرزند ہے کیونکہ عباسی حکومت کی کوشش یہی تھی کہ اگر امام حسن عسکری علیہ السلام کا کوئی بیٹا ہے تو اسے شہید کردیا جائے اور اسی وجہ سے حکومتی اینجسیوں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیات مبارک کے آخری دنوں میں جب امام مریض تھے تو انہوں نے ڈاکٹروں کی صورت میں اپنے جاسوس بھیجے ہوئے تھے

ان نواب اربعہ اور خصوصا پہلے نائب کی ذمہ داری یہ تھی کہ شیعوں کو آگاہ کریں کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرزند ہے اور وہی شیعوں کا آخری امام  ہے اور کیونکہ عثمان بن سعید شیعوں کے نزدیک مورد اطمینان تھا اسی لیے شیعہ بھی اس کی باتوں پر یقین رکھتے تھے اگرچہ بعض لوگ معجزے اور کرامت کا مطالبہ کرتے لیکن عثمان بن سعید کی محکم دلیلوں کے سامنے وہ یقین کرلیتے

عثمان بن سعید کیونکہ پہلے نائب تھے اس لیے جو بھی خمس زکات امام کے لیے لے کر آتا اسے پتہ چلتا کہ امام زمانہ عج کے نائب خاص عثمان بن سعید ہے تو پہلے تو اسے قانع کرنا پڑتا کہ ہمارے بارہویں امام ہیں اوروہ پردہ غیب میں ہیں اگرچہ بعد میں شیعہ سمجھ گئے لیکن پہلے نائب کے لیے یہ بہت سخت مراحل تھے

اس ذمہ داری کو ان چاروں نائبین نے بڑے اچھے انداز سے نبھایا اور اس کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ

فرق ومذاہب کی مختلف کتابیں آج بھی گواہ ہیں کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام زمانہ عج کی ولادت پوشیدہ ہونے کی وجہ سے تقریبا ۱۲ یا ۱۶ یا ۲۰ فرقوں میں بٹ چکے تھے لیکن یہ ان نائبین کی محنتوں کا نتیجہ ہے تھوڑے عرصے بعد سب کے سب فرقے شیعہ اثنی عشری میں واپس آگئے کیونکہ جیسے جیسے انہیں پتہ چلتا گیا کہ امام زندہ ہیں وہ واپس آتے گئے 

اور یہی سب سے بڑی دلیل ہے امام کی ولادت پر ورنہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بغیر کسی رہبر اورپیشوا کے سب شیعہ ایک عام آدمی کی بات مان لیں

   ۲:امام کی حفاظت اور امام کی جگہ اور ان کے نام کو مخفی رکھنا

ایک اور ذمہ داری جو نواب اربعہ پرتھی وہ یہ تھی کہ ہرلحاظ سے امام کے نام اور ان کی جگہ کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا ہے امام زمانہ عج نے خود ایک تحریر میں عثمان بن سعید سے فرمایا کہ ان کے نام اور ان کی جگہ کو پوشیدہ رکھیں اور کسی کو علم نہ ہونے پائے

ایک گروہ نے ابوسہل نوبختی سے پوچھا کہ تم کیوں امام زمانہ عج کے نائب نہیں بنے حالانکہ آپ اہل علم ہیں لیکن اس کے باوجود حسین بن روح نوبختی امام کے نائب ہیں تو اس نے جواب دیا

کیونکہ میں حسین بن روح کی طرح امام کی حفاظت نہیں کرسکتا اور میں مناظرے کرتا ہوں ممکن ہے اگر مجھے امام کی جگہ کا پتہ ہوتا تو میں مناظرےکے دوران جوش میں آکر امام کی جگہ کا بتا دیتا لیکن حسین بن روح ایسا شخص ہے کہ اگر اس کے جسم کے گوشت کو کاٹا بھی جائے تو کبھی امام کی جگہ کا نہیں بتا ئے گا

۳:شرعی اور عقیدتی سوالات کے جوابات

ایک اور ذمہ داری ان کی یہ تھی کہ شیعوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات تھے اگر کبھی مشکل سوال آ جاتے تو خود امام زمانہ عج کی خدمت میں پیش کرکے ان کے جوابات شیعوں تک پہنچاتے

جسیے اسحاق بن یعقوب کا سوال یا قم کے لوگوں کی طرف سے لکھے گئے سوالات اور امام زمانہ عج کا ان کو جواب دینا وغیرہ

  ۴:امام کے اموال کی حفاظت  

ان نواب اربعہ کی ایک ذمہ داری یہ تھی کہ شیعوں کے خمس وزکات جو امام کےلیے تھے وہ ان نواب اربعہ کے پاس بھیجتے اور یہ خاص نائبین ان کو امام زمانہ عج کی مرضی کے مطابق خرچ کرتے تھے کیونکہ اس وقت یہ چار خاص نائب بغداد میں تھے لیکن قم ،نیشاپور ،خراسان ،ھمدان ، کوفہ ،یمن ومصر وغیرہ میں جو شیعہ آبادتھے وہ اپنے مال بھی ایک وکیل کے ذریعے امام کے خاص نائبین تک پہنچاتے تھے اور وہ خاص نائب امام کے حکم کے مطابق انہیں خرچ کرتے تھے

۵:جھوٹے دعویداروں کے ساتھ مقابلہ

ایک بہت ہی اہم ذمہ داری ان کی یہ تھی کہ جو بھی امام جھوٹ بول کر اپنے آپ کو امام کا وکیل کہے ان سے مقابلہ کرنا تھا اور ان کی جھوٹی دلیلوں کو رد کرنا تھا

کیونکہ یہ بہت نازک مرحلہ تھا لوگ اپنے امام سے محبت کرتے تھے اور اپنے اموال خمس زکات کی صورت میں امام کے وکیل کو دیتے تھے اسی دوران بعض دنیا پرست لوگوں نے جھوٹ بول کر اپنے آپ کو امام کا وکیل کہنا شروع کردیا تاکہ اس طریقے سے دولت اکٹھی کرسکیں لیکن یہ  چار خاص نائبین بروقت شیعوں کو اس قسم کے لوگوں سے دوررہنے کی نصیحت کرتے حتی بعض لوگ امام زمانہ عج کے بارے میں غلو کرنے لگے تو نہ صرف ان چار نائبین نے اس کی مخالفت کی بلکہ خود امام نے اپنی تحریروں میں ان پر لعنت کی اور شیعوں کو حکم دیا کہ ان افراد سے دور رہیں کیونکہ یہ گمراہ کرنے والے ہیں جیسے

جب احمد بن ھلال کرخی منحرف ہوگیا اورضروریات دینی سے انکار اور غلو کرنے لگا اوراپنے آپ کو محمد بن عثمان عمری کی جگہ امام کا وکیل کہنے لگا اور دعوی کیا کہ میں امام زمانہ عج کا نائب ہوں اس وقت امام کی طرف سے محمد بن عثمان عمری کے لیے امام زمانہ عج کی طرف سے تحریر آئی جس میں لکھا ہوا تھاکہ

میں ابن ھلال اور جو لوگ اس سے دوری اختیار نہ کریں ان سے بیزار ہوں خدا اس کو نہ بخشے جو کچھ میں نے کہا ہے اس کو اسحاق اور ان کے ہم وطنوں کو بتا دو اور جو کوئی بھی ابن ھلال کے بارے میں پوچھے تمام واقعہ بیان کرو اور اسی طرح ابومحمد شریعی جب منحرف ہوگیا اور نائب ہونے کا دعوی کیا اس وقت امام کی طرف سے حکم صاد ر ہوا اور اس کے مکروہ چہرے کو شیعوں کے سامنے عیاں کردیا

  ۶:خیانت کار وکیلوں کے ساتھ مقابلہ

غیبت صغری کے دور میں ایک گروہ تھا کہ جو امام ہادی علیہ السلام کے دورسے اماموں کے وکیل تھے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں یہ گروہ عثمان بن سعید کے زیرنظرکام کرتے تھے اس گروہ میں سے بعض منحرف ہوگئے اور خیانت کرتے تھے اوراپنے وظیفہ کو بھلابیٹھے تھے اور وہ اموال جو شیعہ بھیجتے تھے ان میں خیانت کرتے تھے اور نواب اربعہ ان کے اس کام کو لوگوں کے سامنے لا شیعوں کو کہتے کہ اس کو اپنے خمس زکات نہ دیں وغیرہ

  ۷: دوسرے وکیلوں کی سرپرستی

غیبت صغری میں امام کے خاص نائب یہ چار افراد تھے جو بغداد میں تھے لیکن دوسرے علاقے جہاں شیعہ تھے ہرعلاقے کےلیے ایک مخصوص نمائندہ تھا اور ہرعلاقے کے تمام نمائندے اس خاص نائب کے زیرنظرتھے اور اسی کے ذریعے شیعوں کے ساتھ ان کا رابطہ بھی تھااور اس کی وجہ سے شیعوں کی بہت سی مشکلات بھی حل ہوتی تھیں اور ان کے سوالات کے جوابات بھی مل جاتے تھے یعنی یہ ایک زنجیر تھی جن کے حلقوں کے آپس میں ملنے کی وجہ سے شیعوں کا اپنے امام سے رابطہ تھا

۸:غیبت کبری کوقبول کرنے کےلیے لوگوں کو آمادہ کرنا

نواب اربعہ کی ایک اور مہم ذمہ داری یہ تھی کہ شیعوں کو غیبت کبری کے لیے آمادہ کریں جس میں امام زمانہ عج کا کسی سے رابطہ نہیں ہوگا اس کے لیے لوگوں کے ذہنوں اور افکار کی تربیت کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ ممکن ہے اگر ذہن اور فکر کی تربیت صحیح نہ ہوتی تو وہ امام کے وجود کے بھی انکار کربیٹھتے لیکن ان نواب اربعہ نے خصوصا علی بن محمد سمری چوتھے نائب نے اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے انجام دیا

اورشیعوں کو آمادہ کیا کہ اگرچہ امام زمانہ عج رسمی طورپر ان کی رہبری نہیں کررہے اور ان کے سامنے موجود نہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کے حالات سے آگاہ نہیں ہیں

مآخذ :

آخرین تحول باحکومت ولی عصر

بحارالانوار ،علامہ مجلسی

درسنامہ تاریخ عصرغیبت   مسعود پور سید آقایی

تاریخ عصرغیبت    آقایی ،رضاجباری وعاشوری حکیم

تاریخ عصرغیبت مولف آقایی

سیرہ پیشوایان