منوی چپ


کیا غیبت کبری میں امام کا نام لینا جائز ہے ؟

  تحریر:تصورعباس خان:::غیبت کبری کے آغاز سے ایک بحث چلی آرہی ہے کہ کیا امام مھدی کا نام جو پیغمبر نے بیان کیا ہے(محمد) کیاغیبت کبریٰ میں یہ نام  لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کی وجہ وہ روایات ہیں کہ جو آئمہ معصومین(ع) سے نقل  ہوئی ہیں بعض میں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ امام مھدی (ع)کا نام نہ لیا جائے  اور بعض میں اجازت دی گئی ہے علماء کے درمیان اس بارے میں تین اقوال ہیں ؛

پہلا قول ؛امام مھدی کا یہ نام (م۔ح۔م۔د۔)کسی زمانہ میں بھی لینا جائز نہیں ہے یہاں تک کہ امام ظھور کریں اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں جنھوں نے اس قول کو اختیار کیا ہے چند ایک روایات ہیں کہ جن سے یہی استفادہ ہوتا ہے کہ امام کانام لینا جائز نہیں ہے یہاں تک کہ امام کا ظھور ہو جائے ۔ محمد بن زیاد نے امام موسیٰ بن جعفر (ع)سے روایت کی ہے کہ امام موسیٰ کاظم (ع) نے فرمایا''تخفی علی الناس ولادتہ ولایحل لھم تسمیتہ حتیٰ یظھرہ اللہ فیملابہ الارض قسطا وعدلا کما ملئت جورا وظلما'' (وسائل الشیعہ،ج،۱۶،ص،۲۴۲،باب،۳۳)

''اس (امام مھدی)کی ولادت کو لوگوں سے مخفی رکھاگیا ہے اور اس کانام لینا جائز نہیں ہے یہاں تک کہ خداوند تعالی ان کا ظھور فرما دے اور وہ زمیں کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح کہ وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہو گی ۔

دوسرا قول ؛ ہر جگہ کہ جہاں امام کی جان کو خطرہ ہو صرف وہاں امام کا نام لینا جائز نہیں ہے یعنی یہ قول مخصوص ہے غیبت صغری سے جب امام کی زندگی کو خطرہ تھا ۔

عبداللہ بن جعفر حمیری نے محمد بن عثمان عمری(امام کے دوسرے نائب خاص) سے پوچھا کیا خلف(امام حسن عسکری کے جانشین) کو دیکھا ہے جواب دیا ہاں خداکی قسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہاں تک کہ امام کے نام کے بارے میں بحث ہوئی تو محمد بن عثمان(دوسرے نائب خاص)سے امام کے نام کے بارے میں پوچھاتو انہوںنے جواب دیا کہ تم پر ایسا سوال کرنا حرام ہے اور یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا اور نہ میں اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام یا حلال کر سکتا ہوں جو کچھ کہا ہے انہی(امام)کی طرف سے ہے ۔۔۔۔۔۔ابو محمد(امام حسن عسکری )شھید ہوے (ظاھرااس وقت لوگوں کے درمیان مشہور یہ تھا کہ )اس کا کوئی جانشین نہیں تھااب اگر امام کا نام لیا جائے تو لوگ امام مھدی کی تلاش میں لگ جائیں گے پس خدا سے ڈرو اور اس بات سے پرہیز کرو(کہ امام کانام نہ لو) '' (وسائل الشیعہ ،ج۱۶ص،۲۴۰،؛اصول کافی ،ج،۱،ص،۳۲۹،الخرائج والجرائح ،ج،۳،ص،۱۱۱ )

اس قسم کی بہت سی روایات ہیں جو اس قسم کے مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اگر تمہارے نام لینے سے امام کی جان کر خطرہ ہو سکتا ہو تو تمہارے لیے امام کا نام لینا حرام ہے کیوں کہ اس طرح لوگ امام کو تلاش کرنا شروع کر دیتے اس لیے خود امام نے ایک توقیع میں فر یایا ''ملعون ملعون من سمانی فی محفل من الناس "(وسائل الشیعہ  ،ج۱۶ص،۲۴۲،باب،۳۳)ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص کہ جو ایک ایسی محفل میں میرا نام لے کہ جس میں لوگ جمع ہوں ان روایات میں غور وفکر کرنے سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اگر امام کا نام لینے سے کوئی خطرہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور بعد والی روایات جو کہ مطلقا امام کا نام لینے کی اجازت دیتی ہیں ان کو بھی اسی مورد پر حمل کیا جا سکتا ہے شیخ حر آملی کہتے ہیں 'ھذا دال علی اختصاص النھی بالخوف وترتب المفسدہ'  '' یعنی یہ روایات دلالت کرتی ہیں کہ اگر خوف ہو اور امام کانام لینے سے امام کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو تو حرام ہے (مطلقا حرام نہیں ہے)

تیسراقول؛ بعض بزرگان اور علماء امام کانام لینے کو جائز سمجھتے ہیں اور چند ایک روایات کو دلیل کے طور پر بیان کرتے ہیں کہ جس میں آئمہ نے خود امام مھدی نام لیا ہے جیسے

شیخ صدوق نے محمد بن ابراھیم کوفی سے نقل کیا ہے کہ امام حسم عسکری نے اپنے بیٹے کی ولادت پر عقیقہ کیا اور اس عقیقے کاگوشت بعض لوگوں کی طرف  بھجوایا تا کہ غریب اور نادار لوگوں میں تقسیم کریں اور فرمایا'' ھذا من عقیقۃ ابنی محمد"یہ میرے بیٹے محمد کے عقیقہ کا حصہ ہے (وسائل الشیعہ،ج،۱۶ص۲۴۳،کمال الدین و اتمام النعمہ ،ج۲،ص۴۲۳)

ابو غانم امام حسن عسکری کاخادم کہتا ہے کہ"ولد لا بی محمد مولودفسماہ محمد عرضہ علی اصحابہ یوم الثالث وقال ھذاصاحبکم من بعدی وخلیفتی علیکم وھوا لقائم"(کمال الدین واتمام النعمہ ،ج۱ ،ص۴۴،)

 جب امام حسن عسکری کا بیٹا پیدا پوا تو اس کا نام محمد رکھا اور فرمایا کہ یہ میرے بعد تمہارا امام اور میرا جانشین ہے اور یہی قائم ہے شیخ حر آملی کہتے ہیں کہ بہت سی روایات ایسی ہیں کہ جوکہتی ہیں کہ اس دور میں امام کا نام لینا جائز ہے اور ہمارے بہت سے علماء اور بزرگان نے اپنی تاریخی ،کلامی  ، اصولی اور حدیثی کتب میں صراحت کےساتھ امام کا نام ذکر کیا ہے جیسے علامہ حلی ، محقق،فاضل مقداد ، سید مرتضی اور سید بن طائوس ۔۔۔۔۔۔۔اور وہ لوگ کہ جو مطلقا حرمت کے قائل ہوں کہ کسی زمانہ میں بھی امام کا نام لینا جائز نہیں ہے بہت کم ہیں ۔

محمد بن عثمان عمری ،امام حسن عسکری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ امام(ع)نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کرتے ہوے فر مایا :

" ان الارض لا تخلو من حجت اللہ علی خلقہ وان من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ فقال ان ھذا حق کما ان النھار حق فقیل ، یابن رسول اللہ من الحجۃ والامام بعدک ؟فقال؛ ابنی محمد ھو الامام و الحجۃ بعدی فمن مات و لم یعرفہ مات میتۃ جاھلیۃ ""(طبرسی ، اعلام الوریٰ ص،۴۴۲،وسائل الشیعہ ج،۱۶ ص،۲۴۶،بحار الانوار ،ج ،۱۶،ص۱۶۰)

تحقیق زمین اور اس پر بسنے والے لوگ کبھی حجت خدا سےخالی نہ ہوں گے اور جو بہی مر جائے اور اپنے زمانہ کے امام کی معرفت نہ رکھتا ہو جاھلیت کی موت مرا ہے پھر فرمایا یہ مسلہ ایک روشن دن کی طرح واضح اور آشکار حقیقت ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا پوچھا گیا کہ فرزند رسول آپ کے بعد حجت اور امام کون ہے ؟تو امام نے فرمایا کہ میرا بیٹا محمد وہ امام اور میرے بعد حجت ہے پس جو بھی مر جائے اور اس کی معرفت نہ رکھتا ہو وہ جاھلیت کی موت مراہے"۔    

علماء استدلال کرتے ہیں کہ امام کے نام کی پہچان بھی امام کی معرفت کا حصہ ہے پس کیسے اس کو مخفی رکھاجاسکتا ہے اور اس نام کا لینا مطلقا حرام ہے

نتیجتا ہم کہ سکتے ہیں کہ اگرچہ ہم تیسرے قول کو مان بھی لیں کہ امام کا نام لینا غیت کبری میں جائز ہے لیکن امام کی عظمت اور ان کی عظیم قدرومنزلت کی بنا پر ان کے نام کی بجائے امام کا لقب استعمال کیا جائے جیسا کہ عربوں میں یہی رواج ہے کہ اصل نام لینے سے پرہیز کرتے ہیں اور زیادہ تر لقب یا کنیت استعمال کرتے ہیں۔اسی  لیے جو غیبت کبری میں امام کے نام لینےکو جائز سمجھتے ہیں ان کی مراد بھی یہ نہیں ہے کہ حتما صرف امام کا نام لینا چاہیے نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہماری مراد یہ ہے کہ یہ جو لوگ کہتےہیں کہ امام کا نام لینا مطلقا حرام ہے ایسا نہیں ہے بلکہ لے سکتے ہیں اگرچہ بہتر یہی ہے کہ نام کی بجائے امام کا لقب یا کنیت استعمال کی جائے